نئی دہلی ،27 ؍دسمبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ ورون گاندھی نے ملک میں اومیکرون کے بڑھتے ہوئے خطرے کے درمیان یوپی میں ہونے والی انتخابی ریلیوں اور رات کو کرفیو کے نفاذ پر سوال اٹھائے ہیں۔ ورون گاندھی نے کہا کہ یہ عام لوگوں کی سمجھ سے باہر ہے۔ انہوں نے ٹوئٹ کرتے ہوئے طنز کیا کہ رات کو کرفیو لگا دیا گیا ہے، جبکہ دن میں لاکھوں لوگوں کو ریلیوں میں بلایا جا رہا ہے۔
ورون گاندھی نے ٹویٹ کیا اور لکھاکہ رات کو کرفیو لگانا اور دن میں لاکھوں لوگوں کو ریلیوں میں بلانا- یہ عام لوگوں کی سمجھ سے باہر ہے۔ اتر پردیش کے محدود صحت کی دیکھ بھال کے نظام کو دیکھتے ہوئے، ہمیں ایمانداری سے فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا ہماری ترجیح خوفناک اومیکرون کے پھیلاؤ کو روکنا ہے یا انتخابی طاقت کا مظاہرہ کرنا ہے۔
واضح رہے کہ ملک کی مختلف ریاستوں میں کورونا کے کیسز میں اضافے کے پیش نظر اتر پردیش میں ہفتہ سے رات کا کورونا کرفیو نافذ کر دیا گیا تھا۔ ریاست میں رات کا کرفیو رات 11 بجے سے صبح 5 بجے تک نافذ رہے گا۔ نیز یہ ہدایات بھی دی گئیں کہ کووڈ پروٹوکول کے ساتھ عوامی تقریبات جیسے شادی وغیرہ میں زیادہ سے زیادہ 200 لوگوں کی شرکت کی اجازت ہوگی اور منتظم مقامی انتظامیہ کو اس کی اطلاع دیں گے۔
دوسری طرف اتر پردیش اسمبلی انتخابات کو لے کر ہر پارٹی اپنی اپنی ریلیاں کر رہی ہے۔ ان ریلیوں میں لاکھوں لوگ پہنچ رہے ہیں۔ پی ایم مودی، اکھلیش یادو، کانگریس لیڈروں کی ریلیوں میں بڑی تعداد میں لوگ شامل ہو رہے ہیں۔ ایسے میں یوپی حکومت کے نائٹ کرفیو پر لگاتار سوال اٹھ رہے ہیں جس نے رات میں کرفیو لگا دیا تھا، لیکن دن میں لاکھوں لوگ ریلیوں میں شامل ہو رہے ہیں۔